ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اب مدھیہ پردیش میں ہاتھرس جیسا واقعہ! گینگ ریپ متاثرہ نے کی خودکشی، پولیس پر سنگین الزامات

اب مدھیہ پردیش میں ہاتھرس جیسا واقعہ! گینگ ریپ متاثرہ نے کی خودکشی، پولیس پر سنگین الزامات

Sat, 03 Oct 2020 14:50:29    S.O. News Service

نرسنگھ پور،3؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ہاتھرس میں دلت لڑکی کی اجتماعی آبروریزی اور موت کے بعد اندھیرے میں پولیس کی طرف سے اس کی چتا کو جلائے جانے کی آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی کہ مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور میں بھی ایک دلت خاتون کو عصمت دری کا شکار بنا دیا گیا۔ یہ تھانہ چچلی علاقہ کے ایک گاؤں میں پیش آیا، لیکن پولیس کے کارروائی نہ کرنے سے دلبرداشتہ متارہ شادی شدہ خاتون نے جمعہ جععہ کے روز خود کشی کر لی۔ 32 سالہ متاثرہ کی گاؤں کے ہی چار لوگوں نے مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی کی تھی۔

متاثرہ کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے پچھلے تین دن تک ملزمان کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا۔ جمعہ کے روز جب متاثرہ نے خود کشی کر لی اس کے بعد پولیس جاگی اور ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے دیگر دو افراد کو متاثرہ کو خود کشی پر مجبور کرنے کے الزام میں بھی گرفتار کیا ہے۔ گاڈرواہ کے سب ڈویژن پولیس آفیسر (ایس ڈی او پی) ایس آر یادو نے جمعہ کے روز بتایا کہ گوٹ ٹوریا پولیس چوکی کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر مشری لال کوڈپے کو متاملہ کے تئیں عدم توجہی کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہی اجتماعی عصمت دری کے الزام میں تین ملزمان اروند چودھری، پارسو چودھری اور انیل رائے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ایک ملزم اروند کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، جبکہ دو دیگر ملزمان کی بھی تلاش کی جا رہی ہے۔ یادو نے بتایا کہ متاثرہ پیر کے روز اپنی دو بھتیجیوں کے ساتھ مویشیوں کے لئے گھاس کاٹنے کے لئے کھیت گئی تھی۔ وہیں، ملزمان نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ آبروریزی کی۔ تاہم، ایس ڈی او پی نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی دو بھتیجیوں نے بتایا کہ ملزمان نے انہیں بھی پکڑا تھا اور چھیڑ خانی کی تھی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا تھا یا نہیں۔

دونوں لڑکیوں نے پولیس کو بتایا کہ جب انہوں نے واقعے کے وقت چیخنا شروع کیا تو ملزمان وہاں سے فرار ہو گئے۔ یادو نے دعویٰ کیا کہ اسی دن خاتون اور اس کے شوہر نے زبانی طور پر پولیس میں شکایت کی تھی لیکن شکایت واضح نہیں تھی۔ پولیس افسر نے بتایا کہ جمعہ کے روز جب متاثرہ گاؤں میں پانی لانے گئی تو ایک خاتون لیلا بائی نے مبینہ طور پر اس پر طنز کیا۔ اس کے بعد، متاثرہ نے اپنے گھر جا کر پھانسی لگا لی۔ متاثرہ خاتون کے شوہر نے الزام لگایا کہ وہ گذشتہ تین روز سے مقدمہ درج کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن فائدہ نہیں ہوا۔

یادو نے کہا، ’'ہم نے عصمت دری کے الزام میں اروند کے والد موتی لال اور ایک دیگر خاتون لیلا بائی کو متاثرہ کو خودکشی پر اکسانے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعہ 306 کے تحت گرفتار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں اجتماعی عصمت دری کے زاویہ سے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔


Share: